ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ہیٹی میں میتھیو طوفان سے سینکڑوں ہلاکتیں، اب رخ اب فلوریڈا کی جانب

ہیٹی میں میتھیو طوفان سے سینکڑوں ہلاکتیں، اب رخ اب فلوریڈا کی جانب

Sat, 08 Oct 2016 12:22:02    S.O. News Service

نیویارک،7؍اکتوبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)ہیٹی میں حکومت کا کہنا ہے کہ میتھیو طوفان کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد بڑھ کر 300تک پہنچ گئی ہے۔شہر جیریمی میں 80فیصد عمارتیں زمین بوس ہو چکی ہیں جبکہ جنوبی صوبے میں 30ہزار مکانات تباہ ہوگئے ہیں۔50کے قریب افراد کی ہلاکت جنوبی شہر روشے آ بیتیو میں ہوئی ہے۔اس سمندری طوفان کو چوتھے درجے کا طوفان قرار دیا جارہا ہے اور اب یہ امریکی ریاست فلوریڈا کی جانب بڑھ رہا ہے۔ایک مقامی اہلکار نے اے ایف پی کو بتایا کہ صرف جنوبی قصبے روشے آ بیتیو میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 50ہے۔ہیٹی دور دراز کے متاثرہ علاقوں سے موصول ہونے والی تازہ تصاویر میں تباہی کے مناظر دیکھے جا سکتے ہیں۔ایک مرتبہ پھر اس طوفان کو کیٹیگری فور میں رکھا گیا ہے اور اسے دوسرا شدید ترین طوفان قرار دیا جا رہا ہے جس کا رخ اس وقت امریکی ریاست فلوریڈا کی جانب ہے۔میتھیو طوفان ہیٹی میں تباہی کے بعد اب باہماس سے اوپر سے گزر رہا ہے اور توقع ظاہر کی جارہی ہے کہ یہ جمعے کی صبح فلوڑیڈا سے ٹکرائے گا۔امریکی حکام کے مطابق فلوریڈا، جورجیا اور جنوبی کیرولائنا میں 20لاکھ سے زائد افراد کو ساحلی علاقوں سے محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا گیا ہے۔طوفان سے شمالی کیرولائنا کے علاقے بھی متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔

ایک مقامی اہلکار نے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ صرف جنوبی قصبے روشے آ بیتیو میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 50ہےاس سے قبل ہیٹی میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 23بتائی گئی تھی لیکن جب ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے اداروں کے اہلکاروں کو جمعرات کے روز بعض دور دراز علاقوں تک رسائی حاصل ہوئی تو ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہوا اور یہ تعداد بڑھ کر سو سے زائد ہوگئی۔فضا سے حاصل کی جانے والی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جنوب مغربی قصبے جیریمی میں سینکڑوں مکانات تباہ ہو چکے ہیں۔خیال رہے کہ اس سے قبل حکام کا کہنا تھا کہ ہیٹی میں آنے والے طوفان 'میتھیو' سے ہونے والی تباہی کے پیش نظر ملک میں ہونے والے صدارتی انتخابات کو بھی ملتوی کر دیا گیا ہے۔ جو کہ رواں ہفتے کے اختتام پر ہونا تھے۔ہیٹی میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے مورد وہبا کا کہنا ہے کہ تقریباً دس ہزار افراد عارضی خیموں میں ہیں جبکہ ہسپتالوں میں مزید جگہ نہیں ہے۔وزیر داخلہ فرانسز اینک جوزف نے بتایا ہے کہ 'ہم یہ جانتے ہیں کہ کئی، کئی مکانات تباہ ہوچکے ہیں۔ بعض مکانات کی چھتیں اکھڑ گئی ہیں جنھیں دوبارہ تعمیر کیا جائے گا جبکہ دیگر مکمل طور پر تباہ ہچکے ہیں۔
 


Share: